Select Menu

اہم خبریں

clean-5

ویوز اور لائکس بڑھانے کیلئے پاکستانی وی لاگرز کے بھونڈے انداز

محلے میں نوجوانوں کے درمیان ہونے والی لڑائی اور گالم گلوچ تو بہت دیکھی ہے، اور کھڑکی میں کھڑے ہوکر نوجوانوں کا ایک دوسرے کو گریبان سے پکڑ کر پٹخا دینے کا مزہ بھی بہت لیا ہے؛ لیکن یہ ڈیجیٹل لڑائی پہلی بار دیکھی ہے جہاں نوجوان کام تو وہی محلے والا کررہے ہیں لیکن ذرا ماڈرن انداز سے۔ میں بات کر رہی ہوں یوٹیوب کی، جہاں پاکستانی نوجوان آج کل ایک دوسرے سے دست وگریبان ہیں اور مجھ سمیت پورا پاکستان اس لڑائی کا بالکل اُسی طرح مزہ لے رہا ہے جیسے کبھی کھڑکی میں کھڑے ہوکر محلے کے نوجوانوں کی لڑائی کا لطف لیا جاتا تھا۔ غضب خدا کا! یوٹیوب نہ ہوئی، اکھاڑے کا میدان ہوگیا، جسے دیکھو کسی نہ کسی کے ساتھ کسی نہ کسی لڑائی میں مصروف ہے۔

ویسے  تو یوٹیوب کےلیے ہمیں گوگل کا شکرگزار ہونا چاہیے لیکن کیا کریں کہ جب سے پاکستان میں ’’یوٹیوب مونیٹائزیشن‘‘ یعنی یوٹیوب سے پیسہ کمانے کی ہوا چلی ہے، تب سے یہی مفید ایجاد ہمارے پاکستانی ’’وی لاگرز‘‘ (Vloggers) یا ’’ولاگرز‘‘ کے ہاتھوں ایسی بن کر رہ گئی ہے جیسے بندر کے ہاتھ ناریل لگ گیا ہو۔ جسے دیکھو بے تکی اور بے مقصد ویڈیوز بنا بنا کر یوٹیوب پر ڈال رہا ہے اور کم و بیش ہر ویڈیو میں ’’سبسکرائب کریں اور لائک کریں‘‘ کی فرمائش بھی کررہا ہے۔ فارغ نوجوانوں کی تو گویا عید ہوگئی۔ کوئی اور کام نہیں آتا تو کوئی بات نہیں، چلو ویڈیو/ وی لاگ ہی بنالیتے ہیں! کچھ ویڈیوز تو اتنی اوٹ پٹانگ بلکہ واہیات حرکتوں سے بھری پڑی ہیں کہ دیکھ کر سر پیٹنے کو دل کرتا ہے، لیکن کیا کریں کہ ویڈیوز بنانے والوں کی طرح ہم بھی فارغ… چلو بھئی دیکھ ہی لیتے ہیں!
لیکن آخر کہاں تک ہم یہ اوٹ پٹانگ حرکتیں دیکھ سکتے تھے، لہٰذا ہم نے کان پکڑے اور پیچھے ہٹ گئے۔ البتہ ہمارے ’’ولاگرز‘‘ پیچھے نہیں ہٹے اور انہوں نے مقبول سے مقبول تر ہونے اور یوٹیوب سے زیادہ سے زیادہ مال بنانے کے چکر میں بیہودہ گفتگو اور ذومعنی جملوں پر مبنی ویڈیوز بنانی شروع کردیں۔ نوبت یہاں تک آن پہنچی ہے کہ یہ ولاگرز اخلاقیات کی تمام حدیں پھلانگتے جارہے ہیں اور انہیں روکنے والا کوئی نہیں۔ جب یوٹیوب کھولو وہی منظر سامنے آجاتا ہے جہاں ولاگرز ’’روسٹنگ‘‘ کے نام پر ایک دوسرے  کی پول پٹیاں کھولنے اور ایک دوسرے کو رگڑا دینے میں مصروف ہوتے ہیں۔ (شاید اس لیے بھی کیونکہ یوٹیوب پر ایسی ہی ویڈیوز اور وی لاگز دیکھنے کا رجحان زیادہ ہے۔) ان کا بس نہیں چلتا کہ ویڈیو سے باہر نکل کر ایک دوسرے کے بال نوچنا شروع کردیں۔
پہلے تماشا محلے میں لگا کرتا تھا، اب یوٹیوب پر لگتا ہے جسے سب کانوں پر ہیڈ فون لگا کر اور چادر میں گھس کر بڑے مزے سے دیکھتے ہیں۔ کیونکہ ان ویڈیوز میں استعمال ہونے والی گفتگو بالکل بھی اس قابل نہیں ہوتی کہ اسے بہن بھائیوں کے ساتھ بیٹھ کر سنا جاسکے، جس کے بعد والدین کے ساتھ بیٹھ کر دیکھنے اور سننے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا! ساتھ میں یہ ڈر بھی لگا ہوتا ہے کہ اگر امی یا ابو نے یہ گفتگو سن لی تو خدانخواستہ انٹرنیٹ سے ہاتھ دھونا ہی نہ پڑجائیں، جبکہ چھترول الگ سے ہوجائے کہ انٹرنیٹ پڑھائی لکھائی میں مدد کےلیے لگوا کردیا تھا یا یہ بیہودہ چیزیں دیکھنے کےلیے! خدا پوچھے ان ’’ولاگرز‘‘ کو، کبھی کبھی تو ایسا لگتا ہے کہ اگر ان ولاگرز کی ریسلنگ منعقد کی جائے تو مدمقابل کی ایسی چٹنی بنائیں گے کہ بڑے بڑے پھنے خان بھی شرما جائیں گے۔ یہ ولاگرز آج کل یوٹیوب پر بالکل محلے کی پھاپھے کٹنیوں کی طرح لڑتے نظر آتے ہیں، بس کمر پر ہاتھ اور کانوں کے پیچھے دوپٹا نہیں اڑسا ہوا ہوتا۔
جیسا کہ میں پہلے بھی کہہ چکی ہوں، یوٹیوب پر اس طرح کی بیہودہ ویڈیوز/ وی لاگز بنانے کے ذمہ دار صرف ولاگرز ہی نہیں بلکہ اس میں بڑا ہاتھ خود یوٹیوب کا بھی ہے۔ گوگل اپنی ’’یوٹیوب مونیٹائزیشن‘‘ کے تحت ویڈیوز لگانے والوں (بشمول ولاگرز) کو، ویڈیو/ وی لاگ پر اشتہار دکھانے کے عوض، پیسے دیتا ہے۔ فارمولا وہی ایڈسینس والا ہے کہ یوٹیوب پر جو ویڈیو جتنی زیادہ مرتبہ دیکھی جائے گی، ویڈیو/ وی لاگ بنانے والے کو اتنے ہی زیادہ پیسے بھی ملیں گے۔ پاکستان کےلیے یوٹیوب مونیٹائزیشن کا اعلان ہونا تھا کہ فارغ پاکستانیوں کے مشاغل میں کبوتر بازی اور پتنگ بازی وغیرہ کے ساتھ ساتھ ایک نیا مشغلہ بھی شامل ہوگیا، جس کے ذریعے وہ بے مقصدیت کا پرچار کرکے، کم وقت میں اور بغیر محنت کیے ہوئے پیسہ بھی کما سکتے ہیں۔ لہٰذا تمام فارغ نوجوانوں کی تو عید ہوگئی اور انہوں نے زیادہ سے زیادہ سبسکرائبرز اور لائکس کے لالچ میں گالیوں، ذومعنی باتوں اور بیہودہ گفتگو پر مشتمل ویڈیوز بنانی شروع کردیں… بلکہ یوں کہیے کہ بیہودگی میں ایک دوسرے کو پیچھے چھوڑنے کی گویا دوڑ لگانا شروع کردی۔ ہمارے لیے افسوس کا مقام ہے کہ  پاکستان کے ٹاپ ’’ولاگرز‘‘ میں، جن کے سبسکرائبرز کی تعداد لاکھوں میں ہے اور جن کی ویڈیوز کو چند گھنٹوں میں ہزاروں اور چند دنوں میں لاکھوں ویوز مل جاتے ہیں، وہ ولاگرز اکثریت میں ہیں جن کا مواد گالیوں، بیہودگی یا چوری شدہ مواد سے بھرا پڑا ہے، جبکہ اچھا مواد تخلیق کرنے والے ولاگرز کو بہت کم دیکھا جاتا ہے، یا پھر دیکھا ہی نہیں جاتا۔
پاکستانی نژاد کینیڈین ولاگر شام ادریس کا شمار پاکستان کے ٹاپ ولاگرز میں ہوتا ہے۔ ان کے یوٹیوب چینل ’’شام ادریس ولاگز‘‘ کے سبسکرائبرز کی تعداد 17 لاکھ سے زائد ہے جبکہ ان کی ویڈیوز پر چند گھنٹوں میں ہی لاکھوں ویوز اور لائکس آجاتے ہیں۔ لیکن مجھے آج تک یہ سمجھ میں نہیں آیا کہ ان وی لاگز میں آخر ایسا کیا ہوتا ہے کہ لوگ شہد کی مکھیوں کی طرح ان پر بھنبھناتے رہتے ہیں۔ لاکھوں ویوز ہونے کے باوجود مجال ہے کہ شام ادریس کے چینل پر کوئی ایک ڈھنگ کی ویڈیو موجود ہو جس میں لوگوں کو کوئی اچھا پیغام دیا گیا ہو۔ اور تو اور، ان کی اہلیہ کوئین فروگی بھی کسی سے کم نہیں۔ دونوں میاں بیوی مل کر انتہائی بھونڈی اوربغیر سر پیر کی ویڈیوز بناکر ڈال دیتے  ہیں اور بدلے میں خوب ڈالر کمارہے ہیں، لیکن ان کا لالچ ہے کہ بڑھتا جارہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ لاکھوں سبسکرائبرز اور ڈالرز کی برسات آپ کو دولت مند بنا سکتی ہے لیکن آپ کو عزت نہیں دلوا سکتی، جسے آج کل شام ادریس اور ان کی اہلیہ ہر جگہ ڈھونڈتے پھر رہے ہیں۔
یہ قصہ بھی بڑا دلچسپ ہے جس میں ان دونوں میاں بیوی کی خوب عزت افزائی ہوئی۔ ہوا کچھ یوں کہ چند روز قبل شام ادریس اپنے مداحوں سے ملاقات کرنے اپنی اہلیہ کے ہمراہ پاکستان پہنچے۔ اب لاکھوں ویوز اورلائکس کی بدولت انہیں لگا ہوگا کہ وہ پاکستان کے شاہ رخ خان اوران کی بیوی کاجول ہیں لہٰذا جیسے ہی یہ سپرہٹ جوڑی پاکستان کی سرزمین پر پیر رکھے گی تو خود وزیراعظم پاکستان ان کے استقبال کےلیے موجود ہوں گے اور وزیر خارجہ ہاتھوں میں پھولوں کی مالا لیے کہیں گے ’’آئیے آپ کا انتظار تھا!‘‘ لیکن شام ادریس کے خوابوں کا محل اس وقت ٹوٹ گیا جب مداحوں سے ملاقات کی ایک تقریب میں ایک نوجوان نے ان کی اہلیہ کے منہ پر گھونسے جڑدیئے۔ پہلے تو سستے شاہ رخ کاجول کی جوڑی کو اپنی اس عزت افزائی پر یقین نہیں آیا؛ بعد ازاں انہوں نے ڈھٹائی کی انتہا کرتے ہوئے ان گھونسوں کو بھی ویوز اور لائکس بڑھانے کےلیے استعمال کرتے ہوئے رونے دھونے پر مبنی ویڈیو جاری کرکے ایک بار پھر ویوز اورلائکس لینے کی کوشش کی۔ لیکن انہیں یہاں بھی منہ کی کھانی پڑی جب یہ حقیقت سامنے آئی کہ کوئی گھونسے کبھی پڑے ہی نہیں تھے بلکہ ان دونوں میاں بیوی نے ویوز کے چکر میں یہ سارا ڈراما رچایا تھا۔
ایسا نہیں کہ پاکستان میں صرف بے ہودہ مواد پر مبنی ویڈیوز ہی بنائی جارہی ہیں! بہت سے ولاگرز دلچسپی سے بھرپور مزاحیہ ویڈیوز بھی بنارہے ہیں جنہیں دیکھا اور پسند کیا جاتا ہے۔ ان میں کراچی وائنز نامی چینل سے لوگوں کو تفریح فراہم کرنے کےلیے مزاحیہ ویڈیوز بنائی جاتی ہیں اور ان کے سبسکرائبرز کی تعداد سات لاکھ سے زیادہ ہے۔ اسی طرح ’’دی ایڈیئٹز‘‘ کے نام سے موجود چینل پر بھی اچھی تفریحی ویڈیوز اپ لوڈ کی جاتی ہیں۔ اس چینل کے سبسکرائبرز کی تعداد 8 لاکھ سے زائد ہے۔ اس کے علاوہ پاکستانی یوٹیوبر آمنہ ’’کچن ود آمنہ‘‘ کے نام سے یوٹیوب چینل چلاتی ہیں اور پاکستانی خواتین کو خوب خوب مزے مزے کے کھانے بنانا سکھاتی ہیں۔ آمنہ پاکستان کی پہلی خاتون یوٹیوبر ہیں جن کے پاس یوٹیوب کا ’’گولڈن پلے بٹن‘‘ ہے۔
اس کے علاوہ پاکستان میں تعلیمی مواد اور معلومات پر مبنی یوٹیوب چینلز بھی موجود ہیں جن میں مختلف ولاگرز نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی کی تعلیم اردو میں دیتے نظر آتے ہیں۔ ان میں عمران علی دینا ’’جی ایف ایکس مینٹور‘‘ کے نام سے گزشتہ 3 برسوں سے یوٹیوب چینل پر گرافک ڈیزائننگ، فوٹوشاپ اور ویڈیو ایڈیٹنگ کی تعلیم دے رہے ہیں۔ عمران علی دینا گزشتہ 17 برس سے اس فیلڈ میں ہیں اور اب وہ اپنا تجربہ یوٹیوب کے ذریعے پاکستانی نوجوانوں میں منتقل کرنے کا نیک کام کررہے ہیں۔ افسوس کی بات ہے کہ ’’جی ایف ایکس مینٹور‘‘چینل کے سبسکرائبرز کی تعداد صرف دو لاکھ ہے جو شام ادریس جیسے گھٹیا مواد پیش کرنے والے ولاگر کے مقابلے میں کہیں کم ہے۔
ہمارے نوجوانوں کا ایک اور المیہ یہ بھی ہے کہ جہاں شام ادریس، ڈکی بھائی اور رضاسمو وغیرہ جیسے بیکار کانٹینٹ کری ایٹرز کی ویڈیوز کو ایک دن میں ڈیڑھ لاکھ سے زائد ویوز مل جاتے ہیں، وہیں عمران علی دینا کی ویڈیو کو (جو سنجیدہ اور پریکٹیکل معلومات پر مبنی ہوتی ہیں) دو ہفتوں میں بمشکل تمام صرف 10 ہزار ویوز ہی مل پاتے ہیں۔
پاکستان میں بڑھتی بے روزگاری اور سرکاری نوکریوں کی کمی کے باعث نوجوان پریشان تو بہت نظر آتے ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ہمارے یہاں لوگوں کو کام نہ کرنے کے بہانے چاہئیں۔ اگر نوکریاں نہیں تو گرافک ڈیزائننگ اور فوٹوشاپ وغیرہ جیسا کوئی ہنر سیکھ کر، اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر کام کیا جاسکتا ہے۔ لیکن نہیں! ہمارے نوجوان تو شام ادریس، ڈکی بھائی اور رضاسمو کی لڑائیاں دیکھ دیکھ کر اور ان کی فحش گفتگو سے لطف اندوز ہوکر اپنا وقت ضائع کرنا زیادہ پسند کرتے ہیں۔ لہٰذا ایسے نوجوانوں کو بے روزگاری کا رونا بھی نہیں رونا چاہیے۔
عمران علی دینا کی طرح ’’خان اکیڈمی اردو‘‘ نامی یوٹیوب چینل پر پچھلے کئی برسوں سے اردو میں تقریباً دو ہزار معیاری تعلیمی ویڈیوز موجود ہیں، لیکن اس چینل پر جا کر اپنا سر پیٹنے کا دل کرتا ہے کیونکہ یہاں کی سب سے مقبول ویڈیو کو 5 سال میں صرف 8000 ویوز ہی مل سکے ہیں جب کہ گزشتہ آٹھ سال کے دوران اس چینل کے سبسکرائبرز کی تعداد صرف 13 ہزار 800 تک پہنچ سکی ہے۔ اسی طرح اگر بات کریں یوٹیوب چینل ’’سائنس کی دنیا‘‘ کی تو پچھلے تین سال سے قائم یہ چینل بین الاقوامی معیار کی ویڈیوز بناتا ہے جن میں طالب علموں اور عام پاکستانیوں کے ذہنوں میں موجود سائنس کے سوالوں کے جوابات نہایت آسان الفاظ میں دیئے جاتے ہیں۔ ان کی ویڈیوز کا معیار کسی بھی طرح نیشنل جیوگرافک اور ڈسکوری سے کم نہیں لیکن پاکستانیوں کو اس سے کوئی غرض نہیں؛ انہیں تو صرف وہ مواد پسند آتا ہے جس میں گالیوں اور بیہودہ الفاظ کا بھرپور استعمال کیا گیا ہو۔
بعد ازاں یہی نوجوان گِلہ کرتے نظر آتے ہیں کہ اچھی تعلیم بہت مہنگی ہے اور عام تعلیم اس قابل نہیں کہ اس کا مقابلہ کسی بین الاقوامی معیار کی تعلیم سے کیا جائے اس لیے ہمیں نوکریاں نہیں ملتیں اور ہم باقی دنیا سے پیچھے ہیں۔ میں ایسے تمام نوجوانوں کو بتانا چاہتی ہوں کہ یہ لوگ معیاری تعلیم کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنی سُستی اور کاہلی کی وجہ سے پیچھے ہیں۔
ہر چیز کا الزام حکومت یا اداروں کو دینا بھی صحیح نہیں۔ کیا گِلہ شکوہ کرنے والے نوجوانوں نے کبھی اچھی تعلیم اور ہنر سیکھنے کی کوشش کی؟ مجھے معلوم ہے کہ کبھی نہیں کی ہوگی کیونکہ اچھا اور معلومات پر مبنی مواد ڈھونڈھنے میں تو محنت لگتی ہے؛ اور پاکستان میں فارغ لوگوں کا مقبول مشغلہ بغیر محنت کے پیسہ کمانا ہے۔ پاکستان کا المیہ ہے کہ یہاں بے روزگارنہیں بلکہ بے تحاشہ فارغ لوگ پائے جاتے ہیں جو بغیر محنت کیے ہی سب کچھ حاصل کرلینا چاہتے ہیں۔

پھول، تتلیاں اور لائبریری

پھولوں اور تتلیوں کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ (فوٹو: فائل)
کتابیں، پھول، خوشبو اور محبت ساتھ رکھتا ہوں
جہاں جاؤں میں اپنی ہر ضرورت ساتھ رکھتا ہوں 

پھولوں اور تتلیوں کا چولی دامن کا ساتھ ہے، مگر کہتے ہیں کہ استاد پھولوں کی طرح اور بچے تتلیوں کی مانند ہوتے ہیں اور جب انہیں نشانہ بنایا جانے لگے تو سمجھ جائیں کہ اب تتلیوں سے کسی کو پیار نہیں رہا۔ پاکستان میں ہر روز 9 بچے جنسی زیادتی کا شکار ہوتے ہیں اور ان میں سے زیادہ کو قتل کردیا جاتا ہے۔ یہ سچ ہے کہ جب آپ کو باغ تباہ کرنا ہو تو اس میں گندگی کے ڈھیر لگا دیجیے۔ گندگی پھیلے گی تو پھول غائب ہوجائیں گے اور جب پھول نہیں کھلیں گے تو تتلیاں تو دور، وہاں انسان بھی آنا چھوڑ دیں گے۔ اسی طرح جب کسی معاشرے کو تباہ کرنا ہو تو سب سے پہلے اس سے استاد چھین لو، معاشرہ خودبخود ختم ہوجائے گا۔
پاکستانی معاشرے میں دہشت گردی کے عفریت کا پہلا نشانہ معصوم لوگ تھے، ان کے دل کی پیاس نہ بجھی تو انہوں نے اسکولوں کو تباہ کرنا شروع کردیا۔ تعلیم کے یہ دریچے بند ہونا شروع ہوئے تو اس روشنی سے ہماری نئی نسل محروم ہوگئی۔ ہمارے معاشرے میں تباہی کا پہلا پتھر پھینک دیا گیا۔ یہ حقیقت ہے کہ جب دریچے بند ہوجائیں تو اندھیرے کسی ڈراؤنے خواب کی طرح آسیب بن کر خیالات پر چھا جاتے ہیں۔ اندھیرا، وحشت اور بربریت کے ایسے دریچوں کا کھولتا ہے جن کا پہلا قدم تو ہوتا ہے مگر آخری نہیں؛ اور یوں معاشرے میں آگے بڑھنے کی جستجو ماند پڑنے لگتی ہے، معاشرہ خود کو ختم کرنے کے درپے ہوجاتا ہے یا ردعمل میں دوسروں کی جانیں لینا شروع کردیتا ہے۔ یوں معاشرے کی بنیادی اکائی میں رہنے والے لوگوں کے پاس واحد حل نقل مکانی رہ جاتی ہے۔ لوگ اپنے گھر بار چھوڑ کر ویران راہوں کے راہی ہوجاتے ہیں اور اپنی جنت خود بنانے کی کوشش میں لگ جاتے ہیں۔ آپ نے دیکھا پھر سوات میں یہی ہوا، قبائلی علاقے کے وہ لوگ جو بربریت کی راہوں پر چلے، انہوں نے سوات جیسی پرامن وادی کا دامن خون سے بھر دیا، قہقہے سسکیوں اور خوشیاں آہوں میں بدل گئیں۔
آپ کو معلوم ہے کہ وہ قبائلی علاقے جہاں فوج اور پولیس کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی، جہاں لوگ ہتھیاروں کو زیور سمجھتے تھے اور اس سے زندگیوں کو اندھیر نہیں کرتے تھے بلکہ ایک عورت کی مالا کی طرح روایتاً کندھے پر سجاتے تھے۔ مگر پھر کیا ہوا، انہی پرامن لوگوں نے اس زیور کے زور پر معصوم ہاتھوں سے قلم چھین کر بم پکڑا دیئے، معلم کے بجائے خود کش بمبار استاد، اسکولوں کے بجائے جہادی ٹریننگ کیمپ اور لائبریریوں کی جگہ جہادی ریڈیو اسٹیشنز بنا لیے اور یوں چہار سو بربریت کے ایسے ہولناک واقعات دیکھنے میں آئے کہ آہوں اور سسکیوں کی آوازیں گلے میں پھنس کر رہ گئیں۔ نہ کوئی امید دلانے والا تھا اور نہ کوئی راہ دکھانے والا۔ دنیا پر رحمت اللعالمین بنا کر بھیجے جانے والے نبیﷺ کی امت کے رکھوالے خون کے پیاسے ہوئے تو سب کچھ بھلا دیا۔
وہ یہ بھی بھول گئے کہ فتح مکہ کے دن جب سب لوگوں کو بارگاہ نبویﷺ میں پیش کیا گیا تو چھوٹے موٹے جرائم والوں کو معاف کردیا گیا۔ آزادی کے ساتھ ساتھ زیادہ تر کو اسلام کی نعمت ملی تو پڑھے لکھوں کو حکم دیا گیا کہ ہمارے بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرو، یہی تمہارا خراج ہے اور یہی تمہاری سزا۔ پھر دنیا نے دیکھا کہ قیدیوں سے تعلیم کے زیور سے آراستہ ہونے والوں نے بغداد میں سب سے بڑی لائبریری بنائی، دنیا کی تمام کتابوں کا عربی زبان میں ترجمہ کیا۔ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ جن علوم کو آج جدید سائنس کی بنیاد سمجھا جاتا ہے، ان کے بنیادی اصول مسلمانوں نے وضع کیے جو آج کولمبیا، آکسفورڈ، کیمبرج، ایم آئی ٹی اور دنیا کی بڑی بڑی یونیورسٹیوں میں پڑھائے جاتے ہیں۔
انگریزوں نے انہی ترجموں سے اس ترقی کی بنیاد رکھی جو آج ہم دیکھ رہے ہیں، تحقیق کو اپنا اوڑنا بچھونا بنایا جس کے بعد جدید علوم ان کی باندیاں ہیں۔ مگر اس کےلیے کتابوں کے ذخیرے یعنی لائبریریوں کی بنیاد بھی مسلمانوں نے رکھی۔ بڑی بڑی لائبریریاں بنائیں اور اس کے بعد سائنس اور اسلام کا چولی دامن کا وہ ساتھ شروع ہوا جو 500 سالہ حکومت میں نت نئی ایجادات اور تحقیقات کا موجب بنا۔ لیکن چولی دامن کے اسی ساتھ کو فراق میں بدلنے میں غیروں کے ساتھ ساتھ مسلمانوں نے بھی اپنا بھرپور حصہ ڈالا۔
اندلس کے شہر قرطبہ میں مدینۃ الزہرہ میں دوسرے خلیفہ الحکم ثانی ابن عبدالرحمان کی ذاتی لائبریری میں کم و بیش 6 لاکھ کتابیں تھیں، اس لائبریری کی فہرست یا کیٹلاگ 44 جلدوں پر مشتمل تھی۔ مگراس عظیم خزانے کو 976 عیسوی میں المنصور ابن ابی عامر نے جلا ڈالا۔ 1029 عیسوی میں سلطان محمود غزنوی نے ’’رے‘‘ کی لائبریری یہ کہہ کر نذرِ آتش کردی کہ یہاں متضاد شر انگیز کتابیں ہیں۔ نیشا پور کی لائبریری کو ترکوں نے 1154 میں، نالندہ یونیورسٹی لائبریری کو بختیار خلجی نے 1193 میں جلا کر اپنے سینوں کی آگ ٹھنڈی کی۔
جب دوسری قوموں نے یہ دیکھا تو انہوں نے بھی وہی ترکیب استعمال کی اور قسطنطنیہ کی امپیریل لائبریری کو صلیبیوں نے 1204 میں جلا کر راکھ کر دیا۔ بغداد کی سب سے بڑی لائبریری دارالحکمۃ (ہاؤس آف وزڈم) کو ہلاکو خان کی فوج نے جلادیا۔ جب اس نے دیکھا کہ یہ کتابیں بہت بڑی تعداد میں ہیں تو اس نے 80 فیصد سے زائد کتابوں کو دریائے دجلہ میں بہادیا۔ تاریخی حوالہ جات سے پتا چلتا ہے کہ ان کتابوں کی سیاہی سے دجلہ کا پانی تین دن تک سیاہ رہا تھا۔
1492 میں اسپین میں ازابیلا اور فریڈرک کی سربراہی میں جب مسلمانوں کا قتل عام ہوا تو سات سال بعد مسلمانوں کی نشانیوں کو ختم کرنے کا اختتام غرناطہ کی سب سے بڑی لائبریری کو جلا کر مسلمانوں کے تعلیمی زوال پر آخری ضرب لگائی جس کی ابتدا المنصور نے دسویں صدی عیسوی میں کی تھی۔ اس کے بعد سے آج تک مسلمان تعلیم کی دوڑ میں سب سے پیچھے ہیں۔ نہ کوئی خوارزمی پیدا ہوا اور نہ ہی کوئی ابن سینا۔ یہ ہے ہماری وہ تلخ اور بھیانک تاریخ جس کا یہ نتیجہ ہے کہ آج اسلامی معاشرے میں الخوارزمی کے بجائے شدت پسند جنم لے رہے ہیں، ابن سینا جیسے محقیقین کے بجائے غلام ابن غلام پیدا ہو رہے ہیں، اور انسانیت سے محبت کرنے والوں کے بجائے انتہا پسند۔ ہمیں اپنے معاشرے میں لائبریریاں بنانی ہوں گی، لوگوں میں پڑھنے کا شوق پیدا کرنا ہوگا۔ تاریخ کا یہ سبق ہے کہ جب تک کتابیں محفوظ نہیں ہوں گی، تب تک علم کی روشنی نہیں پھیلے گی؛ اور جب علم کی روشنی نہیں پھیلے گی تو ہر سو جہالت اور ظلمت کا دور دورہ ہوگا، تکفیر کے فتوے ہوں گے یا اپنی اپنی شریعت کے نعرے۔
رہا اساتذہ کا مقام، تو حضرت علیؓ نے فرمایا تھا کہ جس نے مجھے ایک لفظ بھی سکھایا، اس نے مجھے اپنا غلام بنالیا۔ مگر یہاں استاد کی حیثیت ایک نوکر، ایک چاکر سے زیادہ نہیں؛ چاہے وہ اسکول ٹیچر ہو یا پھر مدرسے کا معلم۔ یہ آج اسلامی معاشرے کا سب سے پسا ہوا طبقہ ہے اور اوپر سے غیر محفوظ بھی۔ یقین کیجیے کہ جب تک کتابیں، لائبریریاں، اسکول اور یونیورسٹیاں محفوظ نہیں ہوں گی، اس وقت تک یہ قوم ترقی کے میدان میں بھی آگے نہیں بڑھ سکتی۔
مجھے خدشہ ہے کہ کہیں ہم اور ہماری قوم بھی کتابوں کی اس راکھ میں غرق نہ ہوجائیں کیونکہ ہمیں نہ ہی تتلیوں سے پیار ہے اور نہ پھولوں سے؛ اور لائبریریوں کا حال یہ ہے کہ آخری بار لائبریری کب گئے، یاد نہیں۔